Showing posts with label Namaz. Show all posts
Showing posts with label Namaz. Show all posts

Sunday, 24 November 2019

نماز فجر کی سنت اگر جماعت کی وجہ سے نکل گئی اور اس کے بعد ڈیوٹی پر چلے گئے تو کیا جماعت کے فوراً بعد پڑھ سکتے ہیں؟ جیسا کہ شافعی حضرات کرتے ہیں؟

نماز فجر کی دو سنتیں اگر فرض سے پہلے نہ پڑھ سکے تو ان کے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں سورج طلوع ہونے کے تقریباً 20 منٹ بعد ادا کرے۔ فرض کے بعد انسان اپنی جگہ پر بیٹھا رہے، اللہ کا ذکر کرتا رہے۔ البتہ اگر کوئی کام ہے تو وہ اپنا کام کرے اور سورج طلوع ہونے کے بعد فجر کی سنتیں ادا کر لے۔ کیونکہ فجر کی نماز کے بعد کوئی نفل نماز جائز نہیں۔ یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔
ترمذی شریف میں حدیث موجود ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
من لم يصل رکعتی الفجر فليصلها بعد ما تطلع الشمس.
جو فجر کی دو رکعت کو ادا نہ کر سکا ہو تو طلوع آفتاب کے بعد ادا کرے۔
سنن النسائی میں حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، اور نہ ہی صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز ہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔
لہذا فجر کی سنتیں اگر رہ جائیں تو سورج طلوع ہونے کے بعد ادا کی جائیں۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

نمازِ تہجد کی کتنی رکعات ہیں اور اس کے ادا کرنے کا وقت کیا ہے؟

نمازِ تہجد کی کم از کم دو رکعات ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعات ہیں۔ بعد نمازِ عشاء بسترِ خواب پر لیٹ جائیں اور سو کر رات کے کسی بھی وقت اٹھ کر نمازِ تہجد پڑھ لیں، بہتر وقت نصف شب اور آخر شب ہے۔ تہجد کے لیے اٹھنے کا یقین ہو تو آپ عشاء کے وتر چھوڑ سکتے ہیں اس صورت میں وتر کو نماز تہجد کے ساتھ آخر میں پڑھیں یوں بشمول آٹھ نوافلِ تہجد کل گیارہ رکعات بن جائیں گی۔ رات کا اٹھنا یقینی نہ ہو تو وتر نماز عشاء کے ساتھ پڑھ لینا بہتر ہے۔
اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ رات کو گیارہ رکعات پڑھتے تھے :
’’ایک رکعت کے ساتھ تمام رکعات کو طاق بنا لیتے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد دائیں کروٹ لیٹ جاتے حتی کہ آپ کے پاس مؤذن آتا پھر آپ دو رکعت (سنت فجر) مختصرًا پڑھتے۔‘‘
مسلم، الصحيح، کتاب صلوة المسافرين، باب صلوة الليل و عدد رکعات النبی صلی الله عليه وآله وسلم فی الليل، 1 : 508، رقم : 736
تنہائی میں پڑھی جانے والی یہ نماز اللہ تعالیٰ سے مناجات اور ملاقات کا دروازہ ہے۔ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو تمام نفل نمازوں میں سب سے زیادہ محبوب نماز، صلاۃِ داؤد علیہ السلام ہے۔ وہ آدھی رات سوتے (پھر اٹھ کر) تہائی رات عبادت کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے۔‘‘
مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب النهی عن الصوم الدهر لمن تضرر به او فوت به حقاً لم يفطر العيدين، 2 : 816، رقم : 1159

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

loading...

Recent Posts

Unordered List

Text Widget

Pages

Powered by Blogger.

Recent Posts

recentposts
▲