Friday, 27 December 2019

یاد رکھ خود کو مٹائے گا تو چھا جائے گا۔ عشق میں عجز ملائے گا تو چھا جائے گا۔

یاد رکھ خود کو مٹائے گا تو چھا جائے گا۔
عشق میں عجز ملائے گا تو چھا جائے گا۔

اچھی آنکھوں کے پجاری ہیں میرے شہر کے لوگ ۔
تو میرے شہر میں آئے گا تو چھا جائے گا ۔

دیدہءخشک میں بیکار سلگتا ہوا غم
روح میں ڈیرے لگائے گا تو چھا جائے گا ۔

ہم قیامت بھی اٹھائیں گے تو ہو گا نہیں کچھ
تو فقط آنکھ اٹھائے گا تو چھا جائے گا

پھول تو پھول ہیں وہ شخص اگر کانٹے بھی
اپنے بالوں میں سجائے گا تو چھا جائے گا

پنکھڑی ہونٹ،مدھر لہجااور  آواز اداس۔
یار تو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا ۔

جس مصور کی نہیں بکتی کوئی بھی تصویر
تیری تصویر بنائے گا تو چھا جائے گا ۔

شاعر : رحمان فارس

Related Posts:

0 comments:

Post a Comment

loading...

Recent Posts

Unordered List

Text Widget

Pages

Blog Archive

Powered by Blogger.

Recent Posts

recentposts